← Al-Risala April 2014Al-Risala April 2014
خبرنامہ اسلامی مرکز — 226
Urdu · 10 min read
1- عثمانیہ یونی ورسٹی (حیدرآباد) میں حسب ذیل موضوع کے تحت 29 - 28 نومبر 2013 کو ایک سیمنار ہوا:
Building Peace Through Earning And Understanding
A Buddhist initiative of dialogue with Hinduism and with Islam
Organised jointly by World Buddhist Culture Trust and OUCIP
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے سی پی ایس کے 9ممبران کے ساتھ اس میں شرکت کی- اِس موقع پر عثمانیہ یونی ورسٹی میں قارئین الرسالہ کی طرف سے ایک چار روزہ (27-30 نومبر 2013)حیدرآباد دعوہ میٹ (Dawah Meet) کی گئی- اِس دعوہ میٹ میں الرسالہ سے وابستہ ساؤتھ انڈیا کے تقریباً 65 ایکٹیو ممبران شریک ہوئے- بعض دوسرے مقامات کے کچھ لوگوں نے بھی اِس میں شرکت کی- اِن لوگوں نے اپنے قیام وطعام کا انتظام عثمانیہ یونی ورسٹی ہی کے گیسٹ ہاؤس میں کیا تھا- اِس موقع پر دعوت اور تربیت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کے کئی پروگرام ہوئے- اِس کے علاوہ حاضرین نے اپنے تاثرات بیان کیے اور دعوہ ورک کی پلاننگ کی- اِس دعوہ میٹ کو عمری برادران نے حیدرآباد کی مقامی ٹیم کے تعاون سے آرگنائز کیا تھا-
2- ممبئی (باندرا کُرلا کامپلکس) میں 29 نومبر 2013 سے 3 دسمبر 2014کے درمیان ایک نیشنل بک فیر منعقد ہوا- اِس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا- یہاں اسٹال کا انتظام مسٹر احمد خان نے سنبھالا-
3- مسٹر سراج الدین قریشی کی طرف سے 30 نومبر 2013 کو وجے واڑہ (آندھرا پردیش) میں واقع اُن کے دو ہوٹلوں میں قرآن کے انگریزی ترجمےکے نسخے رکھے گئے — ہوٹل سورن پیلیس کے 50 روم میں، اور ہوٹل گیٹ وے میں 108 نسخے رکھےگئے-
4- مہاراشٹریہ اسٹیٹ اردو اکادمی کی طرف سے دسمبر 2013 میں انڈیا کی 100 مختلف اردو اکیڈمی اور ادبی اداروں کے نام پر ایک سال کے لیے ماہ نامہ الرسالہ جاری کیاگیا -
5- حیدرآباد کے این ٹی آراسٹیڈیم میں 7-15 دسمبر 2013 کو ایک نیشنل بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈبکس نے بھی اپنا اسٹال لگایا- یہاںاسٹال کا انتظام مسٹر محمد احمد خان نے سنبھالا - اِس کے علاوہ، الرسالہ سے وابستہ مقامی ٹیم کے ممبران نے دعوتی لٹریچر کی تقسیم میں اپنا خصوصی تعاون دیا-
6- سویڈن کی اُمیایونی ورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر مسٹر ماتیاس (Mattias Dahlkvist) نے 7 دسمبر 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو اسلام اور امن کے موضوع پر تھا-
7- پٹنہ (بہار) کے شری کرشنا میموریل ہال میں 15 دسمبر 2013 کو فیوچر پاور (Future Power) کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل سیمنار ہوا- اِس سلسلے میں پروگرام کے دوسرے دن (16 دسمبر 2013) کو یہاں ایک خصوصی ڈسکشن ہوا- اِس پروگرام میں سی پی ایس کے نمائندہ مسٹر ابو الحکم محمد دانیال کو بھی مدعو کیاگیا تھا- یہ ایک ٹاک شو تھا- اِس شو میں ملک وبیرونِ ملک سے چار لوگ شریک تھے- انٹرویو کے دوران مسٹر دانیال نے اسلام میں امن کی اہمیت کے متعلق تفصیلی وضاحت کی- اِس موقع پر پروگرام کے خصوصی مہمانوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-
8- منسٹری آف ایجوکیشن افغانستان کی طرف سے کابل میں 17 دسمبر 2013 کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی- یہ کانفرنس ایجوکیشن (Importance of Education) کے موضوع پر تھی- اِس کی دعوت پر ڈاکٹر فریدہ خانم نے اِس کانفرنس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک پیپر پیش کیا- افغانستان میں بھی دوسرے مقامات کی طرح قارئین الرسالہ کا ایک حلقہ موجود ہے- یہاں ان لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی- یہ لوگ الرسالہ مطبوعات خاص طورپر ’’تذکیر القرآن‘‘ کا پشتوزبان میںترجمہ کررہے ہیں- اِس موقع پر کانفرنس کے شرکا کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-
9- انڈیا اور انڈیا سے باہر کے مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی بڑے پیمانے پر قرآن اور دعوتی لٹریچر کی اشاعت کا کام کررہے ہیں- اِس سلسلے میں سہارن پور (یوپی) میں بھی کافی دعوتی کام ہورہا ہے- یہاں بھی ہمارے ساتھی ڈاکٹر محمد اسلم خاں کی سرپرستی میں مختلف مقامات — اجتماعات اور تقریبات کے موقعوں پر قرآن اور دعوتی لٹریچر کی اشاعت کررہے ہیں- مثلاً 25 دسمبر 2013کو کرسمس کے موقع پر وہاں کے چرچ میں جاکر قرآن کا ترجمہ دیاگیا- اِسی طرح 28 دسمبر 2013 کو سہارن پور کے ڈسٹرکٹ پولوشن آفیسر مسٹر راجیو سری واستو کو قرآن کا ترجمہ دیاگیا- مسٹر راجیو نے سورہ الرحمن کا ترجمہ پڑھنے کے بعد کہا کہ — اِس کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی انسان اپنے پروردگار کا ناشکرگزار نہیں بن سکتا-
10- نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر کے آڈی ٹوریم میں 5 جنوری 2014 کو سیرت النبی کے موضوع پر ایک کانفرنس ہوئی- یہ پروگرام ادارہ عاشقانِ رسول (نئی دہلی) کی طرف سے کیاگیا تھا- اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ممبران کے ساتھ اس میں شرکت کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی- اِس موقعے پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو قرآن کے تراجم اور دعوتی پمفلٹس دئے گئے-
11- مالے گاؤں (مہاراشٹر) میں 3-12 جنوری 2014 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈبکس نے بھی اپنا اسٹال لگایا- یہ بک فیر دعوتی اعتبار سے بہت کامیاب رہا- اسٹال کا انتظام مسٹر احمد خان نے سنبھالا- الرسالہ سے وابستہ مقامی ٹیم کے ممبران نے اِس موقع پر اپنا بھر پور تعاون دیا-
12- ہمارے کچھ ساتھیوں، مسٹرشاہد علی اور مسز عصمت، وغیرہ نے 15 جنوری 2014 کو اجمیر کی درگاہ میں جاکر وہاں کے ذمہ داروں اور زائرین کو قرآن کا ترجمہ دیا- اِس کو انھوں نے بخوشی قبول کیا-
13- جے پور لٹریچر فیسٹول (17-21جنوری 2014)کے موقع پر ہمارے ساتھیوں نے انڈیا کے مختلف مقامات سے آکر فیسٹول میں لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا- یہاں تقریباً پانچ ہزار لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا- فیسٹول میں جے پور کے مقامی ممبرانِ الرسالہ نے اپنا بھرپور تعاون دیا- اِس لٹریچر فیسٹول میںبعض ہندو نوجوانوں نے بھی قرآن ڈسٹری بیوشن میںبھر پور حصہ لیا:
I was part of the team which did dawah work at the Jaipur Literature Festival. I was really happy to see the curiosity of people exhibited in learning about Islam, regardless of their ethnic background. What kept me energetic in the joy of gifting the Quran was the gratitude people showed to the CPS volunteers. People used to smile and thank as if they were in need of the Quran since a very long time. (Sohaib Khan, Lucknow)
13- نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (انیکسی) میں 24 جنوری 2014 کی شام کوایک خصوصی پروگرام ہوا- یہ پروگرام عرب عالم اور محقق عبد الحق الترکمانی کی دہلی آمد کی مناسبت سے رکھا گیا تھا- عبد الحق الترکمانی صدر اسلامی مرکز کی عربی مطبوعات، مثلاً التذکیر القویم فی تفسیر القرآن الحکیم اور خطأ فی التفسیر، وغیرہ کو ایڈٹ کرکے دوبارہ شائع کررہے ہیں- انھوں نے دہلی کا سفر صرف صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے کیا تھا- اِس سلسلے میں مختلف اوقات میں وہ تین دن تک صدر اسلامی مرکز سے ان کی زندگی اور مشن کے متعلق انٹرویو لیتے رہے- 24 جنوری 2014 کی شام کے پروگرام میں عبد الحق الترکمانی نے اِس سفر سے متعلق مختصر وضاحت کی- اِس موقع پر سی پی ایس کے ممبران نے اپنے تاثرات بتائے اور مولانا محمد ذکوان ندوی نے عربی زبان میں ایک تقریر کی- آخر میں صدر اسلامی مرکز نے انگریزی زبان میں اپنے مشن کا مختصر تعارف پیش کیا- عبد الحق الترکمانی عربی کے علاوہ، انگریزی اور سویڈش زبان سے بھی واقف ہیں- اِس پروگرام میں ساؤتھ انڈیا سے بھی ہمارے دو ساتھی — مولانافیاض الدین عمری (کرناٹک) اور مولانا اقبال احمد عمری (تمل ناڈو) شریک تھے-
14- مختلف قسم کے دعوتی تجربات وتاثرات کا ایک حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
— On November 22, 2013, I was in a training program with few senior people from Indonesia. In a conversation during break time, a gentleman by the name of Anis mentioned that they had been looking for an English translation of the Quran. It is strange but true that these people had not read the Quran for the last many years. I had a few copies of the Quran and immediately handed it out to them along with a copy of the book, The Prophet of Peace. (Sailesh Malhotra, Singapore)
— I went yesterday to pick up the box of the Quran translations provided by you. I am so grateful for this great opportunity. I will forever be grateful to you. You can count me on your list of new Quran distributors. (Gnama Griffin, USA)
— I too am a member of the CPS. I too am spreading the message of Islam through the magazine, Spirit of Islam. I feel very glad to let you all know that our magazine has reached Patiala, Ludhiana and Leh. (Zakeena, Amritsar)
— On Jan 10, 2013, a German Christian delegation visited the Parliament House mosque. An interactive programme was organized and conducted by CPS member Sadia Khan. Maria Khan gave an introduction to Islam, which was followed by questions and answers. The German Quran translation and the booklet What is Islam were distributed to all. (Maria Khan, Delhi)
— I received a package of books, including the Quran, from you today. As a member of the science faculty at Bryn Athyn College, an institution devoted to faith-learning integration in a New Church perspective, I will share these books with my colleagues. (Allen J. Bedford, Dean of Academics and Faculty, USA)
— I have again given away my copy of the Quran . I like it so much better than any other translation. I do not like to give people the other translations. So, I keep ending up with no Quran for myself. If I could buy some, I would be so happy to keep them with me when people are interested to know about Islam. (Laura Stanbery, Quinlan, Texas)
— I have established two libraries of Maulana's books in restaurants frequented by Indian and Pakistani people. People are actively reading books there, and also taking them home. I will be starting two more libraries in a nearby city of Springfield. (Laeeq Ahmad, Khan, USA)
— I have read a few different English versions of the Quran, but this one is the best I have read to date. The English structure is easy to understand. I really loved this translation. There is also an explanation and commentary section in the back of the book which makes up about one half of the book. It is easily referenced during the reading of the verses. Definitely a keeper. Nice work ! (Review on the Quran ranslation on Amazon.com by Mark M from Grand Rapids, USA)
— Republic Day was celebrated on 26th January by Bazm-e-Adab at Dr.Shaikh Bunkar Colony Kamptee (M.S.) On the occasion Tringa was unfurled by Mr.Vijay Vasudeo Wasnik. Mr.Radhesham Hatwar, Vice President, Siv Sena, Nagpur Dist. presided over the function. On this occasion Mohammad Irfan Rasheedi distributed Pavitra Quran among the non-muslims. They took it with great interest.
I am a retired government servant from Pakistan. I luckily got a copy of the Quran as a gift from Mr Shamshad Khan, IPIC, Birmingham. Two days back I completed the first study of this Quran, translated by Maulana Wahiduddin Khan. It is a wonderful and a very appropriate translation. The commentary is even more praiseworthy. I have studied many English translations, but I enjoyed reading this one the most. This commentary is different and unique in style. (Col. Muhammad Shahbaz, Pakistan )