قرآن کی سورہ المائدہ میں یہود کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاۗؤُہٗ ۭقُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ (5:18) یعنی یہود ونصاری کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں- تم کہو کہ پھر خدا تمھارے گناہوں پر تم کو سزا کیوں دیتاہے- نہیں، بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک بشر ہو-
قرآن کی اِس آیت میں عذاب کا لفظ آسمانی عذاب کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ یہود کے ساتھ غیر یہودی قوموں کی طرف سے پیش آنے والے ’’مظالم‘‘ کے بارے میں ہے- اِس نوعیت کی دو مثالیں سورہ بنی اسرائیل میں مذکور ہیں- (ملاحظہ ہو: 17:4-7)-
سورہ المائدہ کی مذکورہ آیت میں یہود کے حوالے سے ایک خدائی قانون کو بتایا گیا ہے- اِس قانون کا تعلق جس طرح امتِ یہود سے تھا، اُسی طرح اس کا تعلق بعد کی امت سے بھی ہوگا- اِس قانون کے معاملے میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں-
اِس قانونِ الہی کو موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر منطبق کیجئے- موجودہ زمانے کے مسلمان تقریباً دو سو سال سے اُس سیاست کو اختیار کیے ہوئے ہیں جس کو احتجاجی سیاست کہا جاسکتا ہے- اُن کو شکایت ہے کہ دوسری قومیں ان کے خلاف ظلم کررہی ہیں-
اِن’’ظالموں‘‘ کے خلاف مسلمان مسلسل جہاد کررہے ہیں- مگر نتیجہ (result) کے اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ مسلمانوں کا یہ منفی جہاد مکمل طورپر ناکام ہے- اُن کی بد دعائیں قبول نہیں ہوئیں، ان کے ہتھیار موثر ثابت نہیں ہوئے، اُن کی جانی اور مالی قربانیاں حبطِ اعمال کا شکار ہوگئیں- قرآن کی مذکورہ آیت میں جو معیار بتایا گیاہے، اس کی روشنی میں دیکھئے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں- وہ اِس بات کی علامت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں ہوئی، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی نصرت کے بغیر اِس دنیا میں کسی شخص یا گروہ کوکامیابی ملنے والی نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔