← Al-Risala April 2013Al-Risala April 2013
اسلام کی دریافت
Urdu · 31 min read
قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دورِ آخر میں نازل ہوئی- اس کا ایک حصہ یہ ہے: اَلْیَوْمَ یَىِٕسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(5:3) یعنی آج منکر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو- آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں اکمالِ دین یا تکمیلِ دین (completion of religion) سے مراد فہرستِ احکام کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلام حکومتی معنوں میںغالب ہوگیا ہے- اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کی راہ کے موانع (obstacles) ختم ہوگئے- خود آیت کے الفاظ سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے- کیوں کہ آیت میں اکمالِ دین کا مطلب یہ بتایا گیاہے کہ اب خشیتِ انسانی (human fear) کا دور ختم ہوگیا- اب خدا کے دین کے حق میں ایسے اسباب جمع ہوگئے ہیں جو اُس کو اِس سے محفوظ کردیتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح انسانی رکاوٹوں اور مذہبی جبرکا شکار بنے-
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے (23:44) - مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی پیغمبر کی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں، حتی کہ اِن پیغمبروں کا مدوّن تاریخ (recorded history) میں کوئی ریفرنس بھی موجود نہیں- اِس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبروں کے مشن کو محفوظ رکھنے کے لیے جو تائیدی عناصر (supporting elements) درکار تھے، وہ ان کو حاصل نہ ہوسکے- پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے ساتھ اللہ تعالی نے اِن تائیدات کو جمع کردیا- اِس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ کی تعلیمات ابدی طورپر محفوظ ہوجائیں- قرآن کی مذکورہ آیت میں اِسی معاملے کو اِن الفاظ میں بیان فرمایا کہ اب خدا کا دین خشیتِ انسانی کے دور سے باہرآگیا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات کے محفوظ نہ ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا سبب یہ تھا کہ حفاظت کا یہ کام اسباب کے ذریعے ہوسکتا تھا- مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ اسباب جمع نہیں ہوئے- مثلاً کسی پیغمبر کا کام یا تو شخصی اعلان تک محدود رہا، یا یہ ہوا کہ صرف چند افراد اُن کا ساتھ دینے والے بنے، اور صرف چند افراد حفاظتِ دین کے لیے کافی نہیں- اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ساتھ ایک خصوصی معاملہ یہ کیا کہ پیشگی طورپر ایک موافق نسل تیار کی- نسل سازی کا یہ کام حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں کیا گیا-
عرب کے صحرا میں نسل سازی کا یہ مشن تقریباً ڈھائی ہزار سال تک چلتا رہا، اس کے بعد ایک نئی نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے- اِسی نسل میں 570 عیسوی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوئے- اِس نسل کے درمیان آپ نے پیغمبر کی حیثیت سے تقریباً 23 سال تک کام کیا- ان میں سے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے دین میں داخل ہوگئی- اِس طرح وہ گروہ بنا جس کو اصحاب کہاجاتا ہے- ایک اندازے کے مطابق، اصحابِ رسول (عورت اور مرد) کی تعداد تقریباً 2 لاکھ تھی- اصحابِ رسول کی اِسی جماعت کے ذریعے وہ موافق اسباب فراہم ہوئے جن کو ہم نے تائیدی عناصر (supporting elements) کا نام دیا ہے-
اصحابِ رسول کا رول
اصحابِ رسول کی یہی جماعت ہے جس نے پہلی بار اِس کو ممکن بنایا کہ خدا کے دین کا ایک محفوظ ایڈیشن تیار ہوگیا- اِس سلسلے میں اصحابِ رسول کے رول کے مختلف پہلو ہیں- اِس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک تاریخی شخصیت بن جائے- قدیم دور میں جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد روایات میں تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار بتائی گئی ہے، لیکن معروف تاریخی معیار کے مطابق، اِن میں سے کسی بھی پیغمبر کی حیثیت ’’تاریخی پیغمبر‘‘ کی نہیں ہے، حتى کہ حضرت مسیح جو پیغمبر اسلام سے قریب تر زمانے میں آئے، ان کے بارے میں بھی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) نے لکھا ہے کہ — تاریخی طورپر یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. (Why I Am Not A Christian, 1967, Touchstone, UK, p. 266)
other sourceWords of another person or source
تاریخ میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہونے کا سبب کیا تھا- اِس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق تھا- ابن خلدون (وفات: 1406) سے پہلے ، تاریخ کو بادشاہوں کی تاریخ کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا- قدیم پیغمبروں کے ساتھ چوں کہ حکومت اور سیاست کے واقعات جمع نہیں ہوئے، اِس لیے ان کو تاریخی طورپر ناقابلِ ذکر سمجھ لیا گیا-
اِس صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے گویا مورخین (historians) کی ایک نئی نسل (generation) تیار کی- یہ صحابہ اور تابعین تھے جنھوںنے اِس معاملے میں عملاً وہ رول انجام دیا جس کو اِس سے پہلے پروفیشنل مورخین انجام دیتے تھے- صحابہ اور تابعین نے پیغمبر اسلام اور آپ کی تعلیمات سے متعلق تمام واقعات کا مستند ریکارڈ تیار کیا، پہلے حافظے کی صورت میں اور پھرتحریر کی صورت میں- یہی وہ محفوظ ریکارڈ ہے جس کو آج قرآن اور حدیث اور سیرت کے نام سے جانا جاتا ہے-
یہ ریکارڈ پہلے صحابہ کے ذریعے تیار ہوا، پھر تابعین اور تبع تابعین کے ذریعے اس کا تسلسل جاری رہا- اِسی طرح امت کی بعد کی نسلوں نے اِس کام کی تدوین میں مزید کارنامے انجام دیے- یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاںتک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پریس کا دور آگیا- اب پیغمبر اسلام اور آپ کے متعلق تمام معلومات کا تاریخی ریکارڈ مطبوعہ کتابوں کی صورت میں محفوظ ہوگیا- اِس طرح ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طورپر ایک مستند تاریخی پیغمبر کا درجہ حاصل ہوگیا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس حیثیت کا اعتراف خود سیکولر مورخین نے کھلے طورپر کیا ہے- مثال کے طورپر فرانسیسی مستشرق ارنسٹ ریناں (Joseph Ernest Renan)جس کی وفات 1892 میں ہوئی، اس نے 1851 میں ایک مقالہ شائع کیا- اس کا عنوان یہ تھا:
Muhammad and the Origins of Islam.
اِس مقالے میں ارنسٹ ر یناں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی حیثیت کا کھلا اعتراف کرتےہوئے لکھا تھا کہ— بڑے مذاہب کے دوسرے بانیوں کے برعکس، پیغمبر محمد واحد شخص ہیں جوکہ تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے:
other sourceWords of another person or source
Unlike the other founders of major religions, the Prophet Muhammad was born in the full light of history.
پیغمبر اسلام کا مشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی مشن کیا تھا، اس کو قرآن کی دو آیتوں میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ، ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (61:8-9) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونک سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو ضرور مکمل کرے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو- اللہ ہی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوںکو کتنا ہی ناگوار ہو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِن آیتوں میں دولفظ استعمال کیے گئے ہیں: ہدى اور دین- اِسی کے ساتھ اِن میں دو اور لفظ استعمال کیے گئے ہیں: اتمام اور اظہار- غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اتمام کا تعلق ہدى سے ہے اور اظہار کا تعلق دین سے- اِس میں دراصل اللہ کے دو مطلوب کا ذکر ہے- ایک ہے، نورِ ہدایت کا اتمام، اور دوسرا ہے، دین خداوندی کا اظہار وغلبہ-
نورِ ہدایت کیا ہے، وہ اصلاً دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے- یہ دوچیزیں قرآن اور سنتِ رسول ہیں- قرآن، اللہ کے دین کا نظریاتی متن(ideological text) ہے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن کا مستند ہدایت نامہ اپنی کامل صورت میں محفوظ ہوجائے، تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے وہ خدائی ہدایت کو جاننے کا مستندذریعہ ہو- اِس مطلوب الہی کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی قرآن کو ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی حفاظت مکمل طورپر ایک پرامن کام تھا- اللہ تعالی نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کامل طورپر ایک محفوظ کتاب بن جائے، تاکہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے خدا کی ہدایت کو معلوم کرنے کا مستند ماخذ بن سکے- یہ کام مکمل طورپر انجام پاگیا- اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پریس کے دورمیں قرآن کے چھپے ہوئے نسخے تمام دنیا میں اس طرح موجود ہیں کہ ہر عورت اور مرد جب چاہے، اس کو حاصل کرسکے-
حفاظتِ قرآن کے اِس واقعے کا اعتراف سیکولر محققین نے بھی کھلے طورپر کیا ہے- مثال کے طورپر اسکاٹش مستشرق سر ولیم میور (Sir W. Muir)جس کی وفات 1905 میں ہوئی، اس نے قرآن کی بابت لکھا ہے کہ — غالباً دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی موجود نہیں جو کہ 12 صدیوں تک اپنی کامل حفاظت کو برقرار رکھے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
There is probably, in the world, no book which has remained for 12 centuries with so pure a text.
(The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii)
قرآن کے بعد، خدا کے نورِ ہدایت کا دوسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں پیغمبر خدا کا اسوہ حسنہ (33:21) کہاگیا ہے، یعنی عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا مستند نمونہ - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک پُرازواقعات زندگی (eventful life) تھی- آپ کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آئے-آپ نے ہر صورت حال میں خدا پرستانہ زندگی کا عملی نمونہ قائم کیا- آپ کے اِس اعلی نمونے کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- پیغمبراسلام کی زندگی کے یہ نمونے حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال برٹش اسکالر ڈیوڈ جارج ہاگرتھ(David George Hogarth) ہے، جس کی وفات 1927 میں ہوئی- اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ — پیغمبر اسلام کا روز مرہ کا سلوک خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس نے ایسی حیثیت اختیار کرلی جس کی اب تک لاکھوں لوگ اہتمام کے ساتھ پیروی کررہے ہیں- انسانی نسل کے کسی طبقے کا کوئی آدمی یہ درجہ حاصل نہ کرسکا کہ ایک معیاری انسان کی حیثیت سے اِس طرح اس کا کامل اتباع کیا جائے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Serious or trivial, his daily behaviour has instituted a course which millions observe at this day with conscious mimicry. No one regarded by any section of the human race as perfect man has been imitated so minutely. (Arabia, p. 52)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہُدى سے مراد نظریاتی ماڈل ہے- خدا کی ہدایت کا یہ نظریاتی ماڈل قرآن اور سنتِ رسول کی شکل میں مستند طور پر محفوظ ہوگیا ہے- یہ نظریاتی ماڈل اب ہمیشہ کے لیے پیغمبر کا بدل ہے-
قرآن کی مذکورہ آیتوں میں دو چیزوں کا ذکر ہے — ہدی اور دین- دونوں کی حیثیت ایسے مطلوب کی ہے جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ذریعے حاصل کرنا مقدر تھا- لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے- ہدی سے مراد ایک نظریاتی مطلوب ہے، اور دین سے مراد ایک عملی مطلوب- جب قرآن کا متن محفوظ ہوگیا اور پیغمبر اسلام کا ماڈل حدیث اور سیرت کی کتابوںکے ذریعے مستند طورپر مدوّن ہوگیا تو اس کے بعد وہ مطلوب آخری طور پر حاصل ہوگیا جس کو آیت میں ہدى کے لفظ میں بیان کیاگیا تھا- اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے اپنی ہدایت کا مستند ماخذ تیار کردیا- اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اِس خدائی ماخذ سے اپنے لیے ہدایت حاصل کرتا ہے یا ہدایت حاصل نہیں کرتا-
اظہارِ دین کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- اِس معاملے میں اظہار، یعنی غلبہ مطلوب ہے، نہ کہ صرف نظریاتی معیار کا وجود میں آنا- اِس لیے اظہارِ دین سے ایک ایسا مطلوب مراد لیاجائے گا جو بالفعل وقوع میں آیا- بالفعل وقوع میں آنے سے کم درجے کی کوئی چیز اس کی تفسیر نہیں بن سکتی- اِس آیت میں اظہارِ دین سے حکومتی نظام یا قانونی نظام مراد نہیں لیاجاسکتا- اِس لیے کہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یا آپ کے بعد کامل معنوں میں ایسا کوئی نظام نہیں بنا اور نہ بن سکتا ہے، اِس لیے کہ اِس دنیا کو اللہ تعالی نے انسانی آزادی کے اصول پر بنایا ہے (فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ)- ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں معیاری معنوں میں کوئی کامل نظام بنایا جاسکے- امتحان کی مصلحت کے تحت دی ہوئی انسانی آزادی اِس طرح کے معیاری نظام کو قائم کرنے میں حتمی طورپر مانع ہے- اِس دنیا میں جب آئڈیل کا حصول ممکن نہیں تو آئڈیل کے حصول کو نشانہ بنانا بھی درست نہیں ہوسکتا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایسی حالت میں، اظہارِ دین کی آیت میں دین کے اظہار کی ایسی تفسیر کرنی پڑے گی جو عملی طورپر وقوع میں آئی ہو- اِس اعتبار سے غور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اِس آیت میں دین سے مراد شرعی دین نہیں ہے، بلکہ فطری دین ہے، اور اظہارِ دین کا مطلب ہے انسانی زندگی میں خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، حالتِ فطری کا قائم ہوجانا- دین کا یہ مفہوم قرآن کی ایک اور آیت میں موجود ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں:اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ (3:83)- اِس آیت میں دین سے مراد دینِ شرعی نہیں ہے، بلکہ دینِ فطری ہے، یعنی وہ دین جس پر تمام کائنات بالفعل قائم ہے-یہ دین فطری کیا ہے، وہ قرآن کی اِس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سےکون اچھا کام کرتا ہے- اور اللہ بہت زبردست ہے، بخشنے والا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو پیدا کرکے سیارہ ارض پر بسایا- انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاکہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں نے کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح حدودِ الہی کا پابند بنایا، جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) نہیں کیا- یہی منتخب افراد وہ لوگ ہیں جن کو پوری تاریخ سے لے کر ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا- زمین پر یہ آزادانہ ماحول اللہ کو لازمی طور پر مطلوب ہے- آزادی کے اِس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہر گز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازما خاتمہ کردے گا-
بادشاہت کے نظام کا خاتمہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی- اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کردیاتھا- یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا- اِس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی- یہ صورتِ حال اللہ کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا- اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اِس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کردیں، تاکہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالتِ فطری قائم ہوجائے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا- اِس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کررکھا تھا- اِس صورتِ حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیاگیا ہے- مثلاً: اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْہٰى عَبْدًا اِذَا صَلّٰى (96:9) یعنی کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا پہلا ٹکراؤ اس قبائلی نظام سے ہوا-اِس کے نتیجے میںمحدود نوعیت کی کچھ جنگیں (limited wars) پیش آئیں- آخر کار8ہجری میں مکہ فتح ہوا، جو عرب کے قبائلی نظام کا مرکز تھا- فتح مکہ کے بعد سارے عرب میں قبائل کا زور ٹوٹ گیا اور آزادی کی حالت قائم ہوگئی-فتح مکہ کے بعد اصحاب رسول کو غلبہ حاصل ہوگیا- اِس غلبہ کا مرکز مدینہ تھا- یہ غلبہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکومت قائم ہونے کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ وہ صرف یہ تھا کہ انتظامیہ (administration) قبائلی سرداروں کے ہاتھ سے نکل کر اصحابِ رسول کے ہاتھ میں آگیا-
اِس اعتبار سے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ عرب کے باہر اُس وقت دو بڑی شہنشاہتیں (empires) قائم تھیں — ایک، ساسانی ایمپائر(Sassanid empire) اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر (Byzantine empire) - ساسانی ایمپائر کا دار السلطنت عراق کا قدیم شہر ساسانیان (Ctesiphon) تھا اور بازنتینی ایمپائر کا دار السلطنت ترکی کا شہر قسطنطنیہ (Constantinople) تھا- ساسانی ایمپائر دراصل اُس وقت کے رومن ایمپائر کا مشرقی بازو (eastern wing) تھا- یہ دونوں ایمپائر عرب کے قریب واقع تھے اور وہ اُس وقت کی دنیا میں بادشاہت پر مبنی جبری نظام کے نمائندے بنے ہوئے تھے- اِن دونوں ایمپائر نے اللہ کی دی ہوئی آزادی کو عملاً منسوخ کر رکھا تھا، جو کہ اللہ کو کسی حال میں مطلوب نہ تھا- بازنتینی سلطنت کا اقتدار 15 ملکوں پر تھا- اس کا خاتمہ 678 عیسوی میں ہوا- اور ساسانی سلطنت کا اقتدار 13 ملکوں پر تھا- اس کا خاتمہ 651 عیسوی میں ہوا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن حکمرانوں کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خطوط بھیجے- اِس کا مقصد یہ تھا کہ حکمراںپر امن طورپر اپنے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار ہوجائیں، مگر ایسا نہ ہوسکا- ساسانی حکمراں نے آپ کے مکتوب کو اتنا حقیر سمجھا کہ اس نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا- اس کے بعد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کا دونوں سے ٹکراؤ پیش آیا- اِس ٹکراؤ میں اللہ کی مدد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ساتھ تھی، چناں چہ وہ پوری طرح کامیاب ہوئے-
یہ ایک عظیم تاریخی واقعہ تھا، جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا- چناں چہ اللہ نے ایک اسرائیلی پیغمبرحبقّوق کے ذریعے اس کی پیشگی خبر دے دی تھی جو موجودہ بائبل میں بدستور موجود ہے- اِس پیشگی خبر کے الفاظ یہ ہیں — وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی- اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے- اس کی راہیں ازلی ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He stood and measured the earth; He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting (Habakkuk 3:6)
other sourceWords of another person or source
مذکورہ بیان میں ’’وہ‘‘ سے مراد پیغمبر اسلام ہیں، اور ’’پہاڑیوں‘‘ سے مراد سیاسی پہاڑیاں ہیں، یعنی ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر- ’’اس کی راہیں ازلی ہیں‘‘ سے مراد ہے خدا کے دین کا ابدی طورپر محفوظ ہوجانا- بائبل کی یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کے ذریعے کامل طورپر پوری ہوئی-
نئے دور کا آغاز
جبر پر مبنی مذکورہ دونوں سیاسی ایمپائر کا خاتمہ ساتویں صدی عیسوی میں ہوا- یہ دونوں ایمپائر آزادانہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے- جب یہ دونوں ایمپائر ختم ہوئے تو دنیا میں آزادی کا ایک نیا دور آیا- اِس نئے دور کے حالات نہ صرف مسلم مورخین کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، بلکہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے-
اِنھیں سیکولر مورخین میں سے ایک فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) ہے، جس کی وفات 1935 میں ہوئی- ہنری پرین نے اپنے مطالعے کے نتیجے میں کھلے طورپر اِس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا ہے- ہنری پرین نے لکھا ہے کہ ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر نے دنیا میں مطلق شہنشاہیت (monarchical absolutism) کا نظام قائم کررکھاتھا- اصحابِ رسول نے اپنی غیرمعمولی قربانی کے ذریعے اِس نظام کو توڑ دیا- اِس واقعے کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا- ہنری پرین کے الفاظ میں — اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا- تاریخ کے روایتی نظام کا خاتمہ ہوگیا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (History of Western Europe, p. 46)
other sourceWords of another person or source
ساتویں صدی عیسوی میں جب سیاسی جبر کے نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اس کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا- یہ انقلاب فوری نتیجے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کی حیثیت رکھتا تھا- اِس کے بعد انسانی زندگی میں پہلی بار ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا- یہ تاریخی پراسس برابر چلتا رہا، یہاںتک کہ وہ اپنے آخری نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا- یہ آخری نقطہ انتہا وہی ہے جس کو عام طورپر مغربی تہذیب (western civilization) کہاجاتا ہے- اِس تاریخی عمل کے دو بڑے دھارے تھے — ایک، وہ جس کو جدید اصطلاح میں، جمہوریت (democracy) کہا جاسکتا ہے- اور دوسرا، وہ جس کو جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہنا درست ہوگا-
عام طورپر مسلم علما مغربی تہذیب کے بعض ناپسندیدہ پہلو کو دیکھ کر اس کے بارے میں منفی ہوگئے ہیں، مگر یہ ناپسندیدہ پہلو دراصل مغربی تہذیب کا کلچرل پہلو ہے، وہی اصل مغربی تہذیب نہیں ہے- اصل مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو ہم نے خدا کے دین کے حق میں تائیدی عنصر کی حیثیت سے بیان کیا ہے-
جمہوریت کا دور
اہلِ علم کے درمیان عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے اعتبار سے جو ترقیاں ہوئی ہیں، اُن سب کی بنیاد جمہوریت ہے- سمجھا جاتاہے کہ یہ دراصل انقلاب فرانس (1789) تھا جس کے بعد دنیا میں جمہوریت کادور آیا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انقلا ب فرانس (French Revolution) ایک تاریخی عمل کا نقطہ انتہا تھا- یہ تاریخی عمل انقلاب فرانس سے بہت پہلے عرب میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا-
قرآن میں اِس معاملے میں یہ اصولی حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: أَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ (42:38)یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Their affairs are decided by mutual consultation.
وہ چیز جس کو موجودہ زمانے میں نظام جمہوریت کہا جاتاہے، اُسی کو قرآن میں نظامِ شوری کہاگیا ہے- شورى کا یہ تصور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کا جو اجتماعی نظام بنا، اس کو عام طورپر خلافت کہاجاتا ہے- اِس خلافت کا اگر دوسرا نام تجویز کرناہو تو یقیناً وہ جمہوری خلافت ہوگا-اِس معاملے کی ایک مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق (وفات: 644ء) کا ایک واقعہ ہے- اِس واقعے کو یہاں نقل کیاجاتاہے:
’’خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے میں عمروبن العاص مصر کے گورنر تھے- انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی- اِس دور میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا، مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا- مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایساجملہ کہا جو گورنرکے صاحب زادے (محمد بن عمرو بن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا- مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا: خذہا وأنا ابن الأکرمین (یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)- حضرت انس بن مالک اِس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مصری اِس کے بعد مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے- حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو، اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمرو جس حال میں ہوں، اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ- چناں چہ وہ لوگ مدینہ لائے گئے- جب وہ مدینہ پہنچے تو خلیفہ عمر نے فرمایا: أین المصری، دونک الدرة فاضرب بہا ابنَ الأکرمین(مصری کہاں ہے- یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادہ کو مارو)-اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحب زادہ کو مارنا شروع کیا- وہ مارتا رہا، یہاں تک کہ ان کو زخمی کردیا- خلیفہ عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو- جب وہ خوب مار چکا تو خلیفہ عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد عمرو بن العاص کے سر پر بھی ایک کوڑا مارو، کیوں کہ خدا کی قسم، ان کے بیٹے نے صرف اپنے باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا(فواللہ ماضربک ابنہ إلا بفضل سلطانہ)- مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین، جس نے مجھ کو مارا تھا، اس کو میں نے مارلیا- اِس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں- خلیفہ عمر نے کہا: خدا کی قسم، اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمھارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو- پھر آپ نے عمرو بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: یا عمرو، متى استعبدتم الناس وقدولدتہم أمہاتہم أحراراً (اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالاں کہ اُن کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا)‘‘- سیرة عمر بن الخطاب، علی محمد الصلاّبی (1/306)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے تحت پیدا ہونے والا یہ جمہوری پراسس (democratic process) تاریخ میں سفرکرتا رہا- آخری کار وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے مغربی یورپ پہنچا- خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ واقعے کے تقریباً 11 سو سال بعد فرانس کے جمہوری مفکر روسو (Jean Jacques Rosseau) نے اپنی مشہور کتاب سوشل کنٹریکٹ (Contract Social) 1762 میں شائع کی- اِس کتاب کا پہلا جملہ خلیفہ عمر فاروق کے قول کی بازگشت تھا- کتاب کا وہ پہلا جملہ یہ تھا — — انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man was born free, but I see him in chains.
پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً 30 سال بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ شورائی خلافت اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے، ایک خاندانی خلافت بن گئی، لیکن اسلامی انقلاب کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ اِس ظاہری تبدیلی کے باوجود خلافت کا جمہوری مزاج بدستور باقی رہا- اِس معاملے کی بہت سی مثالیں تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں- بطور مثال یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے-
ہارون رشید کا ایک واقعہ
ہارون رشید عباسی دور کا پانچواں خلیفہ ہے- وہ 766 میں پیدا ہوا اور 809 میں اس کی وفات ہوئی- اس کا ایک واقعہ اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: وذُکر أن یہودیاً کانت لہ حاجة عندہارون الرشید، فاختلف إلى بابہ سنةً ، فلم یقض حاجتہ، فوقف یوماً على الباب- فلما خرج ہارون سعى حتى وقف بین یدیہ وقال: اتق اللہ یا أمیر المؤمنین، فنزل ہارون عن دابتہ وخرّ ساجداً- فلما رفع راسہ أمر بحاجتہ فقضیت- فلما رجع قیل لہ: یا أمیر المؤمنین، نزلت عن دابتک لقول یہودیّ- قال: لا، ولکن تذکرتُ قولَ اللہ تعالى: وإذا قیل لہ اتق اللہ أخذتہ العزة بالإثم، فحسبہ جہنم، ولبئس المہاد- (تفسیر القرطبی، 19/3 ) یعنی کہا جاتا ہے کہ ایک یہودی تھا جس کو ہارون رشید سے ایک کام تھا- وہ شخص اِس کام کے لیے خلیفہ کے دروازے پر ایک سال تک جاتا رہا، مگر خلیفہ نے اس کی ضرورت پوری نہ کی، پھر ایک دن وہ یہودی، خلیفہ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا- جب ہارون رشید باہر نکلا تو وہ شخص تیزی سے آکر خلیفہ کے سامنے کھڑا ہوگیا، اور کہا— اے امیر المومنین، اللہ سے ڈرئیے- یہ سن کر ہارون رشید اپنی سواری سے اترا اور سجدے میں گر پڑا- پھر ہارون رشید نے سجدے سے سراٹھایا اور اس نے حکم دیا اور یہودی کی ضرورت پوری کردی گئی- پھر جب ہارون رشید لوٹا تو اس سے کہا گیا کہ اے امیر المومنین، کیا آپ ایک یہودی کے قول پر اپنی سواری سے اتر گئے- ہارون رشید نے کہا کہ نہیں، بلکہ مجھے اللہ تعالی کا یہ قول یاد آیا: وإذا قیل لہ اتق الّلہ أخذتہ العزة بالإثم فحسبہ جہنم، ولبئس المہاد (2:206)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں جو پراسس جاری ہوا، اس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو ہم نے جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہا ہے- یہ دوسرا پراسس خاص طورپر عباسی عہد (750-1258)میں بغداد میں شروع ہوا، پھروہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اسپین پہنچا- اسپین میں اس نے غیر معمولی ترقی حاصل کی- اسپین کی مسلم خلافت 711 میں شروع ہوئی اور 1492میں ختم ہوئی- اِس مدت میں جو سائنسی ترقیاں ہوئیں، وہی مغرب کے صنعتی انقلاب کی بنیاد بنیں- مسلم خلافت کے زمانے میں سائنس میں جو ترقی ہوئی، اس کے بغیر مغرب میں سائنس کی ترقی ممکن نہ ہوتی- مورخین نے اس واقعے کا کھلے طور پر اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال رابرٹ بریفالٹ (Robert Briffault)کی ہے- وہ فرانس میں پیدا ہوا اور لندن میں اس کی وفات ہوئی- بریفالٹ نے مغرب کی نشاةِ ثانیہ سے پہلے عربوں کے سائنسی رول کا اعتراف کرتےہوئے لکھا ہے کہ — یہ بہت زیادہ قابلِ قیاس بات ہے کہ عربوں کے رول کے بغیر یورپ کی جدید صنعتی تہذیب ہر گز کبھی وجود میں نہ آتی:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
‘It is highly probable that but for the Arabs modern European civilization would never have arisen at all'. Robert Briffault (1876-1948)
other sourceWords of another person or source
(The Making of Humanity, p.190, published in 1919; publisher: G. Allen & Unwin Ltd, UK, pp. 371)
other sourceWords of another person or source
اس طرح کی رائیں کئی اور مغربی اسکالر وںنے دی ہیں- مثلاً برٹرنڈ رسل، فیلدنگ گیرسن (Fielding Garrison) برناڈلوئی (Bernard Lewis) ، وِل ڈیورنٹ(Will Durant)، وغیرہ-یہاں وِل ڈیورنٹ کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:
Muslim scientists helped in laying the foundations for an experimental science with their contributions to the scientific method and their empirical, experimental and quantitative approach to scientific study. (The Age of Faith, by Will Durant (1980), 4/162
other sourceWords of another person or source
یعنی مسلم سائنس دانوں نے سائنٹفک طریقِ عمل میں اپنے کنٹری بیوشن اور اپنے تجرباتی اور کمیاتی منہج کے ذریعے سائنسی مطالعے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی-
اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں
قرآن کی مذکورہ آیات (61:8-9) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلاب مطلوب تھا، اُس انقلاب کے د و حصے تھے — ایک، اتمامِ نور، اور دوسرے، اظہارِ دین- اب اکیسویں صدی میں یہ دونوں مطلوب چیزیں پوری طرح واقعہ بن چکی ہیں- اِس طرح اب اسلامی تحریک اپنے فائنل دور میں پہنچ چکی ہے- اب فائنل رول اہلِ ایمان کو ادا کرنا ہے- اب اہلِ ایمان کا کام ہے کہ وہ اِس تاریخی انقلاب کو سمجھیں اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والے امکانات (opportunities) کو بھر پور طورپر استعمال کریں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اِس مطلوب خداوندی کا ایک پہلو وہ تھا جس کو قرآن میں، اتمامِ نور سے تعبیر کیاگیا ہے- اتمامِ نور سے مراد ایک ایسا واقعہ ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پرامن اورغیر سیاسی واقعہ ہے، اور وہ ہے خدا کے دین کے مستند ایڈیشن کا پوری طرح محفوظ ہو جانا- یہ واقعہ اِس طرح انجام پاچکا ہے کہ خدا کی کتاب( قرآن) کا متن (text) کامل طورپر محفوظ ہوچکا ہے- اِسی کے ساتھ پرنٹنگ پریس کا دور دنیا میں آگیا ہے- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قرآن کا متن اور اس کے ترجمے تیار کرکے ہر زبان میں شائع کیے جائیں اور اس کو تمام اقوامِ عالم تک پہنچا دیاجائے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سلسلے میں دوسرا مطلوب وہ ہے جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہاگیا ہے، یعنی دین کو غلبہ کی حیثیت مل جانا- یہ دوسرا مطلوب بھی اکیسویں صدی میں پوری طرح حاصل ہوگیا ہے- اب اہلِ ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اظہارِ دین کے ذریعے حاصل ہونے والے مواقع کو بھر پوراستعمال کریں- جیسا کہ عرض کیا گیا، اظہار ِ دین سے مقصود یہ تھا کہ دنیا میں وہ حالتِ فطری قائم ہوجائے- یہ واقعہ بھی پوری طرح انجام پاچکا ہے- اب دنیا میں پوری طرح مذہبی آزادی آچکی ہے- کسی بھی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے کسی ملک میںدعوتی مشن کو جاری کرنا ممکن ہوگیا ہے- اِس انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ انسانی تاریخ میں تلوار کا دور ختم ہوگیا- اب صرف پُرامن عمل کا دور ہے- تاریخ کا یہ دور عین دعو تی مشن کے حق میں ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اظہارِ دین، یعنی دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے کی بنا پر بہت سے موافق حالات وجود میں آئے ہیں- اِن میں سے دو بےحد اہم ہیں- ایک ہے، کائنات میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا دریافت ہوجانا- اور دوسرا ہے، جدید مواصلات (modern communication) جس نے تاریخ میں پہلی بار اُس عالمی مشن کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً(25:1)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آیاتِ الہی کا ظہور
آیات اللہ یا آیاتِ معرفت کا ظہور پیشگی طورپر مقدر تھا- قرآن میں اِس کی پیشین گوئی اِن الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ(41:53)- قرآن کی اِس آیت میں جس چیز کو آفاق وانفس میں نشانیوں کا ظہور بتایا گیا ہے، وہ دراصل دورِ جدید میں نظریاتی سائنس کے ذریعے دریافت ہونے والے حقائقِ فطرت ہیں- اِن حقائق نے دورِ جدید میںمعرفتِ خداوندی کے نئے دروازے کھول دئے ہیں-اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ تخلیقاتِ الہیہ میں کمالاتِ الہیہ کو دیکھے اور معرفتِ خداوندی کا اعلی درجہ حاصل کرے- نیز اِسی کے ذریعے یہ بھی ممکن ہوگیا ہے کہ اِن حقائق فطرت کو دعوت الی اللہ کے عمل میں جدید دلائل کے طورپر استعمال کیا جائے- اِس طرح دعوت کے عمل کو خود انسان کے علمی مسلّمہ کے مطابق، ثابت شدہ بنادیا جائے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سائنسی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں دورِ مواصلات (age of communication) کہاجاتا ہے- اِس دورِ مواصلات نے تاریخ میں پہلی بار اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ دعوت الی اللہ کے اُس عالمی نشانے کو پورا کیا جاسکے جس کی پیشین گوئی ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں کی گئی تھی : لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام، بعزّ عزیز وذلّ ذلیل ) زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں رہے گا، جہاں اللہ اسلام کا کلمہ نہ پہنچا دے، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ،یعنی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے (willingly or unwillingly)-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے سے موجودہ زمانے میں جو نئے مواقع کھلے ہیں، وہ سارے انسانوں کے لیے ہیں- یہ ممکن نہیں ہے کہ اِن مواقع پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) قائم ہوجائے- خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، آزادی (freedom) ہر انسان کا فطری حق ہے، مومن کا بھی اور غیر مومن کا بھی- یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ آزادی صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہو اور دوسرے لوگوں کے لیے وہ منسوخ قرار پائے- دوسرے لوگ بھی اپنی آزادی کو کھلے طورپر استعمال کریں گے- اگر کسی کے استعمالِ آزادی سے اہلِ ایمان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو یہ اہلِ ایمان کا اپنا مسئلہ ہے، وہ دوسروں کا مسئلہ نہیں- دوسروں پر صرف یہ پابندی لگائی جاسکتی ہےکہ وہ اپنی آزادی کو اِس طرح استعمال نہ کریں کہ وہ دوسروں کے لیے جسمانی جراحت (physical injury) کا سبب بن جائے- اِس ایک پابندی کے سوا، کوئی اور پابندی نہ مطلوب ہے اور نہ ممکن-
ایک اسلامی اسکالر کا مقالہ نظر سے گزرا- اِس مقالے میں انھوں نے لکھا تھا کہ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بنیادی طورپر دو ہے— توحید اور عدل- توحید (Monotheism) سے مراد ان کے نزدیک انفرادی عقیدہ تھا، اور عدل (justice) سے مراد عدل پر مبنی اجتماعی نظام- انھیں دو تصورات کے تحت انھوں نے پورے اسلام کی تشریح کی تھی-
مگر میرے مطالعہ کے مطابق، اسلام کا یہ تصور درست نہیں- حقیقت یہ ہے کہ توحید اورعدل دونوں ہی انفرادی نوعیت کے احکام ہیں- توحید سے مراد ہے ایک انسان کا انفرادی عقیدہ، اور عدل سے مراد ہے، ایک انسان کا انفرادی سلوک- قرآن کے مطابق، اللہ تعالی نے انسان کو معرفت کے لیے پیدا کیا ہے (51:56)- انسان کو اللہ تعالی نے عقل دی- اب انسان سے یہ مطلوب ہےکہ وہ عقل کو استعمال کرکے اپنے خالق کو دریافت کرے- یہی دریافت، خدا پرستانہ زندگی کا آغاز ہے- اِس دریافت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے- جب کسی شخص کو حقیقی معنوں میں یہ دریافت ہوتی ہے تو اس کے بعد فطری طورپر اس کی پوری زندگی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے- اس کی پوری شخصیت ایک نئی شخصیت بن جاتی ہے، وہ پورے معنوں میں ایک ربانی انسان بن جاتاہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی قسم کاربانی انسان تخلیق کا اصل مقصود ہے- اِسی قسم کے ربانی افراد، نہ کہ ربانی معاشرہ، خدا کے تخلیقی منصوبے کا اصل مقصود ہیں- موجودہ دنیا میں ایسےافراد پوری انسانی تاریخ سے منتخب کیے جائیں گے اور پھر اِن منتخب افراد کی بنیاد پر آخرت کی دنیا میں ایک اعلی ربانی معاشرہ وجود میں آئے گا- یہی وہ افراد ہیں جو خدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے-
خالق نے اِس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی ہے- یہ آزادی برائے امتحان ہے، نہ کہ برائے استحقاق- انسان کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے- یہ آزادی قیامت سے پہلے منسوخ ہونے والی نہیں- اِس آزادی کی بنا پر ایسا ہے کہ اِس دنیا میں اعلی افراد تو بنتے ہیں، لیکن اعلی معاشرہ یا اعلى نوعیت کا اجتماعی نظام کبھی نہیں بنتا- انسانی زندگی کی یہ نوعیت قیامت تک بدستور باقی رہے گی-قیامت کے بعد ایک نئی کامل دنیا بنے گی- وہاںپوری تاریخ کے منتخب افراد بسائے جائیں گے اور جو لوگ اپنی آزادی کا صحیح استعمال نہ کرسکے، اُن کو جمع کرکے کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا— خداکے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسانی زندگی کی حقیقت یہی ہے- انسانی زندگی کی بامعنی تعبیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ اِس خدائی منصوبے کو ذہن میں رکھ کر اس کی تعبیر کی جائے، انسانی تاریخ کو بامعنی تعبیر دینے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں-