← Al-Risala April 2012Al-Risala April 2012
سوال وجواب
Urdu · 7 min read
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے دعوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اِس سے عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو دعوت دینے کا کوئی فائدہ نہیں، کیوں کہ قرآن میں صاف طورپر آیا ہے کہ: إنّ الذین کفروا سواء علیہم أأنذرتہم أم لم تنذر ہم لا یؤمنون (2: 6) یعنی جن لوگوں نے کفر کیا، اُن کے لیے یکساں ہے، تم اُن کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ براہِ کرم، اِس سوال کی وضاحت فرمائیں (شارق حسین، نئی دہلی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت کا تعلق عمومی معنوں میں دعوت الی اللہ سے نہیں۔ اُس کا تعلق اصلاً صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر (contemporary) ایک گروہ سے ہے جس کے اوپر پیغمبراسلام نے لمبی مدت تک دعوتی جدوجہد کی، اِس کے باوجود وہ لوگ انکار کی روش پر قائم رہے۔ اِس آیت کا تعلق منصوبۂ دعوت سے نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تہدیدی اعلان ہے۔ اِس آیت سے برعکس طورپر یہ معلوم ہوتاہے کہ ہر گر وہ پر لازماً دعوت کا عمل کیا جائے گا۔ اس کو کسی بھی حال میں بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ کا معاملہ ہے کہ وہ اِس گروہ کو ایمان کی توفیق دے یا نہ دے۔ دعوت، اہلِ ایمان کی ذمے داری ہے اور مدعو کو قبول حق کی توفیق دینا اللہ کا کام۔
قرآن کی اِس آیت کے نزول کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ گروہ کے درمیان دعوت کاکام بند نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کو بدستور جاری رکھا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، حتی کہ ایسے گروہ پر بھی جو علمِ الٰہی کے مطابق، اُس کو قبول کرنے والا نہ ہو۔ داعی کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ داعی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مخاطَب اس کی بات کو قبول کرے گا یا وہ اس کو قبول نہیں کرے گا۔ دوسری جگہ قرآن میں یہ آیت آئی ہے: فذکر إنما أنت مذکّر، لستَ علیہم بمصیطر إلا من تولّی وکفر، فیعذبہ اللہ العذاب الأکبر (88: 21-24)۔ اِس آیت سے معلوم ہوا کہ داعی کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ آخر وقت تک اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتا رہے۔ جہاں تک نتیجہ (result) کا تعلق ہے، وہ اس کو مکمل طورپر اللہ کے حوالے کردے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اہلِ کتاب خصوصاً نصاریٰ سے متعلق یہ سوال ذہن میں ابھرتاہے کہ موجودہ دور کے عیسائی بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے نجات اخروی کے مستحق ہیں یا نہیں۔ کیا ان کے لئے اللہ کی نازل کردہ کتاب انجیل مقدس کافی نہیں ہے۔ اخروی نجات کا معاملہ تو خدا اور بندہ کا پرسنل معاملہ ہے، اور اس کے لئے خدائے واحد کو ماننا، آخرت پر ایمان رکھنا اور عمل صالح کرنا کافی ہے، جیسا کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے: إن الذین آمنوا والذین ہادوا والنصاری والصابئین من آمن باللہ والیوم الآخر وعمل صالحا فلہم أجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (2: 62) ۔ قرآن مجیدمیں ایک جگہ اللہ نے اہلِ انجیل کو انجیل کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے: ولیحکم أہل الانجیل بما أنزل اللہ فیہ، ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فاولئک ہم الفاسقون (5: 47) ۔وضاحت فرمائیں (محمد سمیع اللہ، ممبئی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1 - اِس سوال کے سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ طرز فکر اپنے آپ میں درست نہیں۔ ’’نجاتِ اُخروی‘‘ کا مستحق کون ہے، اِس کا علم صرف خدا کو ہے۔ کوئی بھی شخص اگر اِس معاملے میں اپنی رائے دیتاہے تو وہ ایک ایسے دائرے میں داخل ہوتاہے جس میں داخل ہونے کا سرے سے اس کو کوئی حق حاصل نہیں۔ ہمارا کام صرف دعوت دیناہے، نہ کہ اِس سوال پر رائے زنی کرنا کہ نجاتِ اخروی کا مستحق کون ہے۔ اِس معاملے میں قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ مثلاً اِس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وما أدری ما یفعل بی ولا بکم (46: 9) یعنی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کیا کیاجائے گا۔ یہی بات ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں آئی ہے: واللہ ما أدری، وأنا رسول اللہ، ما یُفعل بی ولا بکم ( صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7018) یعنی خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، خدا کی قسم، میں نہیں جانتا، اگر چہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمھارے ساتھ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت اور اِس حدیثِ رسول سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ نجاتِ آخرت کا معاملہ سرتا سر اللہ کے فیصلے کا معاملہ ہے۔ ہمارے ایمان اور ہمارے عمل کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ نجات کی عملی دعا ہے، وہ نجات کی قیمت نہیں۔ ہماری ذمے داری صرف یہ ہے کہ ہم ہر ایک کو یکساں طورپر اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ جہاں تک آخرت کے انجام کی بات ہے، وہ تمام تر اللہ کا معاملہ ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے علم کی بنیاد پر ہر ایک کے لیے اُس کے اخروی انجام کا فیصلہ کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 - قرآن کی دوسری آیت جس کا آپ نے حوالہ دیا، اُس کا ترجمہ یہ ہے: ’’بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاری اور صابی، اُن میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے عملِ صالح کیا، تو اُس کے لیے اُس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور اُن کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے‘‘ (2: 62) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس آیت میں دراصل گروہی نجات کی تردید ہے۔ نجات کا تعلق کسی فرد کے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ مجرّد کسی گروہ سے وابستہ ہونے کی بنا پر۔ اِس معاملے میں مسلم گروہ کا بھی کوئی استثنا نہیں۔یہاں مسلمانوں کو دوسرے مذہبی گروہوں سے الگ نہیں کیا گیاہے، بلکہ مسلمانوں کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیاگیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے، ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی فرق نہیں۔ سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے، اور وہ ہے — ایمان اور عملِ صالح۔ کوئی گروہ اپنے آپ کو خواہ مسلمان کہتا ہو، یا وہ اپنے آپ کو یہودی، یا مسیحی، یا صابی کہے، اُن میں سے کوئی بھی محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خدا کے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجے کا اعتبار صرف اِس بات پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق، اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔
یہاں اِس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تاریخی اعتبار سے، نہ کہ مدارِ نجات کے اعتبار سے، وہ تمام مذاہب یکساں حیثیت رکھتے ہیں جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ مگر اب سے 14 سو سال پہلے خدا کا آخری رسول آیا۔ اُس نے اعلان کیا کہ پچھلی تمام شریعتیں اللہ نے منسوخ قرار دے دی ہیں۔ اِسی طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ زمین کے اوپر خدا کا مستند دین ہونے کی حیثیت صرف اسلام کو حاصل ہے، جو شخص خدا کی مرضی کو معلوم کرنا چاہے، اُس کو لازمی طورپر اسلام کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اصولاً دوسرے کسی طریقے کی پیروی میں وہ خدا کی رضا حاصل نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا مواخذہ تمام تر اِس بات پر منحصر ہے کہ اُس کو کس درجے میں خدا کا پیغام پہنچا تھا۔ اور اِ س کا علم صرف اللہ کو ہوسکتاہے، نہ کہ کسی انسان کو۔ جہاں تک ہماری ذمے داری کا تعلق ہے، وہ یقینی طورپر دعوت ہے، نہ کہ فتویٰ نافذ کرنا۔
3 - آپ نے قرآن کی جو آیت (5: 47) نقل کی ہے، اُس کے متعلق مختصراً میں کہوں گا کہ اُس کا تعلق نجاتِ آخرت سے نہیںہے، اُس کا تعلق مخصوص سماجی حالات میں ایک سزا کے نفاذ سے ہے۔ آج بھی اگر ایسے سماجی حالات پیدا ہوں تو وقتی طورپر اِس اصول کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔