کامیاب زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے عمل کے لیے کسی ایسے میدانِ کار کا انتخاب نہ کرے جس کے لیے وہ صرف جزئی طورپر اہل (competent) ہو۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے بارے میں یہ دریافت کرے کہ وہ کس کام کی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتاہے اور پھر وہ اُسی کام کو اپنے عمل کا میدان بنائے۔ کسی کام میں حقیقی کامیابی کے لیے کلّی اہلیت درکار ہوتی ہے۔ جزئی اہلیت کے ذریعے کوئی شخص کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔
یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے، مگر عجیب بات ہے کہ بہت کم ایسے افراد ہیں جو اِس اصول کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیرکریں۔ بیش تر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ محض شوق کے تحت ایک ایسے میدان میں داخل ہوجاتے ہیں جس کے لیے وہ پوری طرح اہل نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ بیش تر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عمل کا آغاز حوصلہ مندی کے ساتھ کرتے ہیں، مگر آخر کار وہ مایوسی کا شکار ہوتے ہیں اور پھر وہ اِسی حال میں مرجاتے ہیں۔ ہرآدمی کا یہ معاملہ ہے کہ اس کے اندر فطری طورپر بعض صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ آدمی کوچاہئے کہ وہ اپنی زندگی کے اِس پہلو کو دریافت کرے۔ وہ صرف اُس کام میں اپنے آپ کو لگائے جس کے لیے وہ اپنی صلاحیت اور اپنے حالات کے اعتبار سے زیادہ اہلیت (competence) رکھتا ہو۔
کسی بھی عورت یا مرد کو یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ایسے میدان میں کود پڑے جس میں وہ بہتر کارکردگی کا ثبوت نہ دے سکتا ہو۔ مثال کے طورپر اگر ایک شخص کے اندر تعلیمی کام کی صلاحیت ہے تو اس کو سیاست کے میدان میں نہیں کودنا چاہیے۔ اگر ایک شخص کے اندر علمی کام کی صلاحیت ہے تو اس کو بزنس نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ایک شخص کے اندر روایتی کام کی صلاحیت ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ غیر ر وایتی کام کو اپنا میدانِ کار نہ بنائے، وغیرہ۔ اِسی کا نام منصوبہ بندی (planning) ہے، اور منصوبہ بندی کے بغیر اِس دنیا میںکوئی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.