قرآن کی سورہ البقرہ میں امتِ محمدی کو ’امتِ وسط‘ (2: 143) کہاگیا ہے، یعنی بیچ کی امت، (middle community)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدی، رسول اورعام انسانوں کے درمیان ہے۔ اُس کو رسول سے جو خدائی ہدایت ملی ہے، اس کو نسل درنسل تمام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اِس سے مراد وہی مستقل ذمے داری ہے جس کو دعوت الی اللہ کہاجاتاہے۔ اکثر الفاظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتاہے اور دوسرا اُس کا استعمالی مفہوم۔ ’وسط‘ کا لغوی مفہوم یا اصل مفہوم دو کناروں کے درمیان (بین طَرَفیِ الشیٔ) ہوتاہے۔ اُس کا ایک استعمالی مفہوم بہتر چیز (الخیر) کے معنی میںہے۔ قرآن کی اِس آیت میں ’وسط‘ کا لفظ استعمالی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اِس کے اصل معنی میں ہے، یعنی درمیانی امت کے معنی میں۔ اِس آیت میں امتِ وسط کا لفظ امت کے مشن یا اس کی داعیانہ ذمے داری کو بتا رہا ہے، وہ ہر گز کسی قسم کی پراسرار فضیلت کے معنی میں نہیں۔
قرآن کی اِس آیت میں امت محمدی کے داخلی اوصاف کو بیان نہیں کیاگیا ہے، بلکہ اِس میں امت کی خارجی ذمے داری کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ خارجی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اللہ کے نقشۂ تخلیق (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرے۔ وہ ہر زمانے اور ہر نسل میں اِس دعوتی کام کو جاری رکھے۔ یہ دعوتی مشن ہی وہ مشن ہے جس کی ادائیگی پر امتِ محمدی کا ’امت محمدی‘ ہونا متحقق ہوتا ہے۔
دعوت الی اللہ کی یہ ذمے داری امتِ محمد کے ہر فرد پر اُسی طرح فرض ہے جس طرح اس کے اوپر نماز اور روزہ فرض ہے۔ تاہم اس کی عملی صورت کا تعین ہر فردکی ذاتی استطاعت کے اعتبار سے ہوگا۔ جو فرد جس درجہ یا جس نوعیت کی استطاعت رکھتاہو، اُسی کے اعتبار سے اُس کو دعوت الی اللہ کا یہ فرض انجام دینا ہوگا۔ جو شخص عمل کی استطاعت رکھتا ہو، وہ عمل سے اُس میں شرکت کرے۔ جو شخص مال کے اعتبار سے استطاعت رکھتا ہو، وہ مال کے اعتبار سے اس میں شرکت کرے، وغیرہ۔ بالفرض اگر کوئی شخص اِن میں سے کسی چیز کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ انسانوں کا سچا خیر خواہ بنے اور مدعو کی ہدایت کے لیے دل سے دعائیں کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔