Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2010
Al-Risala April 2010

عجز اور اختیار

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 35 کی ایک آیت یہ ہے: یا أیّہا الناس أنتم الفقراء إلی اللہ، واللہ ہو الغنی الحمید (فاطر: 15 ) یعنی اے لوگو، تم سب اللہ کے محتاج ہو۔ اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف والا ہے۔ یہی بات ایک حدیث میں اِن الفاظ میں آئی ہے: یا عبادی، کلّکم ضالّ، إلا مَن ہدیتُہ، فاستہدونی أہدِکم۔ یا عبادی، کلّکم جائع إلا من أطعمتہ، فاستطعمونی أطعمکم۔ یاعبادی، کلّکم عارٍ إلاّ من کسوتہ، فاستکسونی أکسُکم (صحیح مسلم، کتاب البرّ، باب تحریم الظلم) یعنی اے میرے بندو، تم سب کے سب بھٹکے ہوئے ہو، سوا اُس کے جس کو میں راہ دکھاؤں۔تم مجھ سے رہنمائی مانگو، میں تم کو رہنمائی دوں گا۔ اے میرے بندو، تم سب کے سب بھوکے ہو، سوا اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو، تم سب کے سب عاری ہو، سوا اُس کے جس کو میں پہناؤں۔ تم مجھ سے طلب کرو، میں تم کو پہناؤں گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے ایک کامل وجود دیا، لیکن انسان کو کسی بھی اعتبار سے ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ انسان مکمل طورپر ایک عاجز مخلوق ہے۔ اِس عجز کی تلافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اِس عجز کی تلافی بقدر ضرورت کی گئی ہے، جس کا اشارہ قرآن کی اِس آیت میں موجود ہے: واٰتاکم من کلّ ما سألتموہ (ابر اہیم: 34 )۔ آخرت میں اہلِ جنت کے لیے اِس عجز کی تلافی بقدر خواہش کی جائے گی، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: ولکم فیہا ما تشتہی أنفسکم (حم السجدۃ: 31 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی حقیقت کی دریافت سب سے بڑی معرفت ہے۔ قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں، اپنے عجزِتام کو شعوری طورپر دریافت کرنا، یہی معرفت کاآغاز ہے۔ اِس دریافت کے بغیر کسی انسان کے اوپر معرفت کا دروازہ نہیں کھلتا— معرفت سے بہرہ مند لوگوں کے لیے جنت ہے، اور معرفت سے بے بہرہ لوگوں کے لیے جہنم۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content