Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala april 2009
Al-Risala april 2009

خوشی صرف آخرت میں

Urdu · 2 min read

چارلی چپلن(Charlie Chaplin) ایک برٹش فلم اسٹار تھا۔ اس کی پیدائش 1889 میں ہوئی۔ اور 88 سال کی عمر میں 1977 میںاس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک مزاحیہ اداکار(comedian) تھا۔ اس کا شو دیکھ کر لوگ بہت زیادہ ہنستے تھے۔ مگر خود چارلی چپلن اندر سے غم گین رہتا تھا۔ تمام مادّی سازوسامان کے باوجود، اس کو اپنی زندگی میں خوشی حاصل نہیں ہوئی۔

کہا جاتا ہے کہ ایک بار ایک نفسیاتی ڈاکٹر (psychiatrist) کے پاس ایک شخص آیا۔ اُس نے کہا کہ میں بہت زیادہ افسردہ رہتا ہوں، آپ مجھ کو کوئی ایسی تدبیر بتائیے کہ میں خوش رہ سکوں۔ ڈاکٹرنے کہا کہ تم چارلی چپلن کا شو دیکھا کرو۔ آنے والے نے کہا کہ میںہی تو چارلی چپلن ہوں۔ میںدوسروں کو ہنساتا ہوں، لیکن میرا دل اندر سے روتاہے۔

other sourceWords of another person or source

چارلی چپلن ایک کامیڈین (comedian) تھا، مگر جب موت کاوقت قریب آیا، تو وہ اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک ٹریجڈین (tragidian) بن چکا تھا۔ وہ شخص جو دوسروں کو ہنساتاتھا، اس نے اپنی حالت پر ایک بار اِن الفاظ میں تبصرہ کیا کہ— میں بارش میں چلنا پسند کرتا ہوں، تاکہ کوئی میرے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہ دیکھ سکے:

I always like to walk in the rain, so that no one can see me crying.

یہی اِس دنیا میں ہر عورت اورمرد کی کہانی ہے۔ لوگ مصنوعی طورپر ہنستے ہیں، لیکن اندر سے انھیں کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ لوگ مصنوعی طور پر اپنی کامیابی کے قصے بیان کرتے ہیں، لیکن اندر سے وہ شکست خوردہ نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی خوشی اور راحت نہیں۔ خوشی اور راحت صرف آخرت میں ہے جو موت کے بعد آنے والے دورِ حیات میں صرف خدا پرست عورتوں اور مردوں کو حاصل ہوگی۔بنانے والے نے موجودہ دنیا کو عمل کے لیے بنایا ہے۔ یہاں صرف عمل برائے مسرت (happiness) ممکن ہے، نہ کہ خود مسرت کا حصول۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content