Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala april 2009
Al-Risala april 2009

اہتزاز یا مشقت

Urdu · 2 min read

ایک انگریز شاعر نے ایک نظم لکھی ہے۔ اِس نظم میں بطور خود ایک مفروضہ دنیا کا خوب صورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اِس مفروضہ دنیا کے ماحول میں مسرت ہی مسرت (happiness)ہے۔ اِس نظم کی ایک لائن یہ ہے— ہر طرف اہتزاز ہی اہتزاز:

Thrill, thrill, all the way

یہ ایک شاعرانہ مفروضہ ہے۔ ایسی کوئی دنیا حقیقت میں یہاںموجود نہیں۔ خالق نے اِس دنیا کو برائے امتحان بنایا ہے، نہ کہ برائے اہتزاز۔ قرآن کی سورہ نمبر 90 میں بتایاگیا ہے کہ خدا نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد:4 )۔ ایسی حالت میں، اِس دنیا میں مسرتوں سے بھری ہوئی زندگی حاصل کرنا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہ دنیا کبھی مسائل سے خالی نہیں ہوسکتی۔ اِس لیے اِس دنیا کے بارے میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ— ہر طرف مشقت ہی مشقت:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Trouble, trouble, all the way

ایسی حالت میں یہ صرف نادانی ہوگی کہ آدمی اِس دنیا میں اپنے لیے خوشیوں اور راحتوں کا ایک محل بنانے کی کوشش کرے، کیوں کہ یہاں ایسا محل بننے والا ہی نہیں۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی اِس معاملے میں حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ پیشگی طورپر یہ یقین کرے کہ اِس دنیا میں اس کو مسائل کے جنگل میںزندگی گزارنا ہے۔ آدمی کو یہاں بے مسائل کی دنیا بنانے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اُس کو مسائل کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کرنے کا فن سیکھنا چاہیے:

Man has to learn the art of problem management.

ایڈجسٹ کرنے سے انسان کا ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔اِس طرح اس کے اندر اعلیٰ شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔اِس کے ذریعے وہ انسانیتِ اعلیٰ کے مقام پر پہنچنے کے قابل بنتا ہے— زندگی ممکن کے دائرے میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کا نام ہے، نہ کہ ناممکنات کے دائرے میں احمقانہ چھلانگ لگانے کا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content