Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala april 2009
Al-Risala april 2009

قادرِ مطلق، عاجز ِ مطلق

Urdu · 2 min read

خدا اورانسان کے درمیان جو نسبت ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ خدا کُل ہے اور انسان اس کا جُز ہے۔ خدا سمندر ہے اور انسان اس کا ایک قطرہ ہے۔ اِس قسم کی تمام نسبتیں سر تا سر بے بنیاد ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ خدااور انسان کے درمیان ’’ہے ‘‘ اور ’’نہیں‘‘ کی نسبت ہے۔ خدا سب کچھ ہے اور انسان اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ خدا، واجب الوجود (self-existing) ہے، اور انسان مکمل طور پر اور ہر اعتبار سے خدا کے حکم سے وجود میں آنے والی صرف ایک مخلوق۔

انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ ایک صاحبِ شعور مخلوق ہے۔ انسان کے ذریعے اس کائنات میںشعوری عجز کا واقعہ وجود میں آتا ہے، اور بلا شبہہ اِس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے، جو اِس کائنات میں شعورِ قدرت کے مقابلے میں شعورِ عجز کی دوسری انتہا (extent) بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحے پر ’’عدد‘‘ کے مقابلے میں ’’صفر‘‘ کا ہندسہ تحریر کرتا ہے۔ وہ خداوندی انا کے مقابلے میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

یہی شعورِ عجز انسان کا سب سے بڑا سرمایہ (asset) ہے۔ یہی کسی انسان کے لیے اس کی سب سے بڑی دریافت (discovery) ہے۔ جب کوئی عورت یا مرد عجز کی زبان بولیں، تو انھوںنے اپنی زبان کا صحیح استعمال کیا۔ اِس کے مقابلے میں جو عورت یا مرد فخر اور سرکشی اور خونمائی اور گھمنڈ اور اظہار برتری کی زبان بولیں، تو انھوںنے اپنی زبان کا غلط استعمال کیا۔ اِس دنیا میں صرف اُس انسان کو جینے کا حق ہے جو اِس کی قیمت ادا کرے، اور یہ قیمت عجز ہے۔ عجز کی قیمت ادا کیے بغیر اِس دنیا میں رہنا بلا شبہہ ایک جُرم کی حیثیت رکھتا ہے۔

عجز دراصل حقیقت شناسی کی اعلیٰ ترین صورت کا نام ہے۔ عجز کوئی مجبورانہ چیز نہیں، عجز دراصل وہ مثبت کیفیت ہے جو حقیقت ِ اعلیٰ کے اختیارانہ اعتراف سے پیدا ہوتی ہے۔ عجز کوئی انفعالی کیفیت نہیں، وہ تمام فعّال کیفیات سے زیادہ بڑی فعّال کیفیت ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.