Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2008
Al-Risala April 2008

عُذر نہیں

Urdu · 2 min read

انگریزی زبان کے ایک مشہور مقولے میںنہایت درست طورپر کہاگیا ہے کہ — اگر تمھارے پاس ایک بہترین عذر ہو، تب بھی تم اس کو استعمال نہ کرو:

other sourceWords of another person or source

If you have a good excuse, don't use it.

عذر (excuse) انسانی زندگی میں ہر وقت پیش آتا رہتا ہے۔ کوئی بھی گھر یا کوئی بھی سماج عذر سے خالی نہیں۔ ایسی حالت میںاگر عذر کو عذر بنایا جائے تو آدمی کوئی کام نہیں کرسکتا۔ ہر وقت وہ کسی نہ کسی عذر میں پھنسا رہے گا، اور جو کرنے کا کام ہے، اس کو وہ نہ کرسکے گا۔

اِس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اِس کا حل یہ ہے کہ دو قسم کے اَعذار (excuses) میں فرق کیا جائے۔ ایک، معمولی عذر (usual excuse) اور دوسرا، غیر معمولی عذ ر(unusual excuse) ۔ معمولی عذر یہ ہے کہ گھر میں مہمان آجائیں، سر میں کچھ درد ہوجائے، کسی کو اسپتال میں دیکھنے کے لیے جانا ہو، خاندانی تقریب میں شرکت، کسی کی آمد پر اس کا استقبال(receive) کرنااور اس کو بھیجنے (see off) کے لیے جانا، پیدائش اور موت کے واقعات، وغیرہ۔ یہ سب معمول کے عذر ہیں۔ ایسے عذر کو کسی ذمے داری کے سلسلے میں عذر بنانا درست نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

دوسرا عذر وہ ہے جو غیر معمولی عذر کی حیثیت رکھتا ہو، یعنی شدید قسم کا ناگہانی واقعہ۔ اِس دوسرے قسم کے عذر کو مجبور کُن عذر (compulsive excuse) کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ عذر ہے جو آدمی کے لیے سخت معذوری (crippling) کا سبب بن جاتا ہے۔

جب صورتِ حال یہ ہے کہ اِس دنیا میں زندگی اعذار (excuses) سے بھری ہوئی ہے تو ہر بامقصد انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ عذر سے اوپر اٹھ جائے، تاکہ مقصدِ حیات کے اعتبار سے جو بڑا کام اس کو کرنا ہے،اُس بڑے کام کو وہ انجام دے سکے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے، وہ عذر کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائے گا اور کوئی بڑا کام انجام نہ دے سکے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content