Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2006
Al-Risala April 2006

اسلام کا میکانائیزیشن

Urdu · 2 min read

دبئی کی ایک کمپنی نے ایک نیا سیلولر فون بنیایا ہے جس کا نام اسلامک موبائل فون ہے۔ اس فون میں اسلام سے متعلق مختلف قسم کی معلومات بھر ی ہوئی ہیں۔ اس میں پورا قرآن ریکارڈ کیا ہوا محفوظ ہے۔ آپ کسی بھی وقت اس کو ایک بٹن دبا کرسن سکتے ہیں۔ اسی طرح اس کے ذریعے روزانہ پانچ وقت اذان سنی جاسکتی ہے۔ اِسی کے ساتھ اس میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔ اس طرح کی بہت سی معلومات اِس اسلامک موبائل فون میں محفوظ کردی گئی ہیں۔

ایک بیرونی سفر کے دوران ایک صاحب نے مجھے یہ ’’اسلامک موبائل فون‘‘ تحفے کے طور پر دیا۔ وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔ مگر میں نے موبائل کا یہ تحفہ فوراً ہی انھیں لوٹا دیا۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں، میںاس کو زوال کی ایک علامت سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک اسلامک موبائل دراصل اسلامک کنزیومرازم ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے میکانائزیشن کا بہت رواج ہوا ہے۔ مگر یہ صرف اِس بات کی علامت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اسلام کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو اصل سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ اسپرٹ کے بغیر فارم ایسا ہی ہے جیسے کہ نارنگی کے بغیر اس کا چھلکا۔

موجودہ زمانے میں کمیونکیشن بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے جدید کمیونکیشن کو اب تک اسی اصل کام کے لیے استعمال نہ کیا جاسکا۔ اسلامی دعوت یہ ہے کہ اسلام کے مثبت پیغام کو قومی اور سیاسی آلائشوں سے پاک کرکے خالص ربّانی انداز میں پھیلایا جائے۔ جدید کمیونکیشن نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ دعوت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ جدید کمیونکیشن کا اصل استعمال یہی ہے۔ جدید کمیونکیشن کے دعوتی استعمال کے بعد، اس کے دوسرے استعمالات بھی جائز ہوسکتے ہیں۔ مگر دعوتی استعمال کے بغیر اس کے دوسرے استعمالات کا کوئی جواز نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.