امت محمدی کے بارے میںایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ان امتی لا تجتمع علی ضلالۃ (ابن ماجہ، کتاب الفتن) یعنی بے شک میری امت کبھی کسی گمراہی پرجمع نہ ہوگی۔اس حدیث کامطلب عام طورپر یہ لیا جاتا ہے کہ پوری کی پوری امت ہمیشہ ہدایت پر رہے گی۔ وہ کبھی ضلالت پر جمع نہ ہوگی۔ حالاں کہ حدیث کایہ مطلب نہیں۔ حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت محمدی پر ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا کہ دوسری امتوں کی طرح،ساری امت ضلالت پر مجتمع ہوجائے۔ بلکہ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ ضلالت عام کے باوجود کچھ لوگ ضلالت سے بچے رہیں گے اور لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھاتے رہیں گے۔ اس حدیث میں ایک تاریخی حقیقت کو بتایا گیا ہے، نہ کہ دوسری امتوں کے مقابلہ میں امت محمدی کی فضیلت کو۔
اصل یہ ہے کہ یہ کوئی فضیلت کا معاملہ نہیں۔ بلکہ وہ ایک سادہ فطری حقیقت کا بیان ہے۔ پچھلی امتوں میں عمومی بگاڑ کا سبب یہ تھا کہ ان کا آسمانی متن محفوظ نہ رہا۔ اس بنا پر ان کے یہاں صحیح اور غلط کو جانچنے کاکوئی معیار باقی نہ تھا۔ یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ رہا کہ خدا کی مستند ہدایت کیا ہے۔ اور کوئی چیز غلط ہے تو کیوں غلط ہے۔ کتاب ہدایت کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت اندھیرے میں بھٹکے ہوئے مسافر کی ہوگئی۔مگر امت محمدی اس نوعیت کے بگاڑ سے محفوظ ہے۔ پچھلی امتوں میں کتاب ہدایت کے گم یا غیر محفوظ ہونے کی بنا پر بعد کے زمانہ میں دین کو معلوم کرنے کا ذریعہ لوگوں کا عمل یا لوگوں کی اپنی تشریحات ہی باقی رہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ صحیح اور غلط کو پرکھنے کی جو آسمانی یا خدائی کسوٹی ہے وہی موجود نہ رہی۔ مستند ہدایت کے گم ہونے کی وجہ سے لوگ ہدایت سے دور ہوگئے۔ مگر امت محمدی میں چونکہ کتاب ہدایت اصل حالت میںموجود ہے، اس لئے حق کے طالب اس سے ہدایت معلوم کرتے رہیں گے۔ اور لوگ کبھی عمومی گمراہی میںمبتلا نہ ہوں گے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔
حدیث میںآیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من قال لا الہ الا اللّٰہ دخل الجنۃ۔ اس حدیث کے الفاظ کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ بنایا کہ کلمہ گو کے لئے جنت ہے۔ یعنی کلمہ کے الفاظ میںکچھ ایسی پر اسرار فضیلت موجود ہے کہ زبان سے اس کاتلفظ کرلینا ہی جنت میں داخلہ کے لئے کافی ہوجائے گا۔ یہ تشریح درایت کے نقطۂ نظر سے بظاہر قابل فہم معلوم نہیںہوتی۔ کیوں کہ جنت جیسی قیمتی چیز کسی آدمی کو حقیقی عمل کی بنیاد پر ملنی چاہئے، نہ کہ محض کچھ الفاظ کی لسانی ادائیگی سے۔ اب اگر قرآن خدانخواستہ محفوظ حالت میں نہ ہو توہمارے پاس وہ مستند معیار (criterion) ہی موجود نہ ہوگا جس پر جانچ کر اس کے صحیح یا غلط ہونے کو معلوم کیا جاسکے۔
اب اگر اس نظریہ کو قرآن کے معیار پر جانچا جائے تو قرآن میںہمیں اس کا واضح جواب مل جاتا ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے سورہ المائدہ ۸۳۔۸۵ کا مطالعہ کیجئے۔ قرآن کی اس آیت میں بھی وہی بات کہی گئی ہے جو مذکورہ حدیث میںہے، یعنی قول پر جنت کا انعام (فاثابہم اللہ بما قالوا جنٰت) مگر اسی کے ساتھ قرآن کی اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قول سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد قول معرفت ہے، نہ کہ مجرد قول لسانی۔اس سے مراد معرفت حق ہے (مما عرفوا من الحق)۔ یعنی یہ بشارت اس انسان کے لئے ہے جس کو سچائی کا گہرا عرفان حاصل ہو۔ یہ عرفان اتنا گہرا تھا کہ اس کے اثر سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اس نے سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک زندگی کو چھوڑا اور دوسری زندگی کو اختیار کیا۔ کلمہ کی گواہی اس کی اندرونی شخصیت میںایک مکمل انقلاب کا اظہار تھی۔ وہ اس بات کا اعلان تھی کہ کلمہ کی دریافت نے اس کو ایک نیا انسان بنا دیا ہے۔ نیت اور قول اور عمل، ہر اعتبار سے اب وہ ایک بدلا ہوا انسان ہے، نہ کہ وہ انسان جو کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا۔
قرآن اگر خدانخواستہ محفوظ حالت میں نہ ہو تو ’’کلمہ گو‘‘ کے نظریہ کی صحت اور غلطی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ ہوگا۔ جب کہ قرآن کے محفوظ ہونے کی بنا پرہم اس حیثیت میں ہیں کہ اس نظریہ کی صحت و غلطی کو مستند طورپر جان سکیں۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ پچھلی امتیں مجموعی طورپر گمراہی کا شکار ہوگئیں۔ جب کہ امت مسلمہ کے لیے محفوظ کتاب الٰہی اس بات کی ضامن ہے کہ وہ کبھی بھی عمومی گمراہی کا شکار نہ ہوسکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔